صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۳ - حدیث کے الفاظ نقل کرنے میں احتیاط
حدیث کے الفاظ کی احتیاط: ہم منهم والی روایت
صحیح بخاری : ۳۰۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۱۳
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّه سمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا الصَّعْبُ فِي الذَّرَارِيِّ كَانَ عَمْرٌو يُحَدِّثُنَا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ ، قَالَ : " هُمْ مِنْهُمْ وَلَمْ يَقُلْ كَمَا ، قَالَ : عَمْرٌو هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ " .
صعب روایت:
´(سابقہ سند کے ساتھ) زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے عبیداللہ سے سنا بواسطہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ان سے صعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور صرف «ذراري» (بچوں) کا ذکر کیا ‘ سفیان نے کہا کہ` عمرو ہم سے حدیث بیان کرتے تھے۔ ان سے ابن شہاب ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، (سفیان نے) بیان کیا کہ پھر ہم نے حدیث خود زہری (ابن شہاب) سے سنی۔انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور انہیں صعب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(مشرکین کی عورتوں اور بچوں کے متعلق کہ) وہ بھی انہیں میں سے ہیں۔“ (زہری کے واسطہ سے) جس طرح عمرو نے بیان کیا تھا کہ «هم من آبائهم» وہ بھی انہیں کے باپ دادوں کی نسل ہیں۔ زہری نے خود ہم سے ان الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کیا یعنی «هم من آبائهم» نہیں کہا بلکہ «هم منهم» کہا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۳ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی حدیث کے الفاظ کی مزید وضاحت آتی ہے۔ زہری نے عبیداللہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور انہوں نے صعب رضی اللہ عنہ سے بچوں کے بارے میں روایت بیان کی۔ سفیان نے بتایا کہ عمرو پہلے ابن شہاب کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے، پھر انہوں نے خود زہری سے سنی۔ اہم بات یہ ہے کہ زہری نے الفاظ هم منهم بیان کیے، یعنی وہ بھی انہی میں سے ہیں۔ انہوں نے وہ الفاظ نہیں کہے جو عمرو نے هم من آبائهم کے طور پر بیان کیے تھے۔ حدیث کے الفاظ کی احتیاط والی یہ روایت بتاتی ہے کہ محدثین بات کو جیسے سنا، ویسے ہی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ معمولی لفظی فرق بھی واضح کر دیا جاتا تھا تاکہ بات صحیح رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث نقل کرتے وقت لفظوں کی احتیاط ضروری ہے۔
- راویوں نے مختلف الفاظ کو الگ الگ بیان کیا۔
- هم منهم اور هم من آبائهم جیسے فرق کو بھی محفوظ رکھا گیا۔
- دینی بات میں سنی سنائی بات کو بے احتیاطی سے نہیں کہنا چاہیے۔
