ابو بکرؓ کے فضائل
کل احادیث 2
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل اور ان کا بلند ترین مقام
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم ترین مقام پر فائز ہیں اور ان احادیث مبارکہ سے ان کی بے مثال فضیلت واضح ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ تمام مردوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے تھی۔ جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مردوں میں آپ کا سب سے محبوب انسان کون ہے، تو آپ نے ان کے والد یعنی ابوبکر صدیق کا نام لیا۔ اس کے علاوہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات کے دوران ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کی امامت کا حکم دے کر یہ ثابت کیا کہ امت میں ان سے بڑھ کر کوئی اور اس منصب کا حقدار نہیں تھا۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق، یہ فیصلہ ان کی منفرد اور بلند ترین حیثیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ. رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو مُوسَى وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عائشہ روایت:
میں نے اس معاملہ (یعنی ایام مرض میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے) کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باربار پوچھا۔ میں باربار آپ سے صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ جو شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں) آپ کی جگہ پر کھڑا ہو گا، لوگ اس سے کبھی محبت نہیں رکھ سکتے بلکہ میرا خیال تھا کہ لوگ اس سے بدفالی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم نہ دیں۔اس کی روایت ابن عمر، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ " ، قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : " أَبُوهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " عُمَرُ " ، فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ .
ابوعثمان نہدی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (غزوہ سے واپس آ کر) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ فرمایا کہ عائشہ، میں نے پوچھا اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے والد، میں نے پوچھا، اس کے بعد کون؟ فرمایا کہ عمر۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے بس میں خاموش ہو گیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے بعد میں نہ کر دیں۔
