صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۵ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت
ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت: نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو
صحیح بخاری : ۴۴۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۴۵
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ. رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو مُوسَى وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عائشہ روایت:
میں نے اس معاملہ (یعنی ایام مرض میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے) کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باربار پوچھا۔ میں باربار آپ سے صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ جو شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں) آپ کی جگہ پر کھڑا ہو گا، لوگ اس سے کبھی محبت نہیں رکھ سکتے بلکہ میرا خیال تھا کہ لوگ اس سے بدفالی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم نہ دیں۔اس کی روایت ابن عمر، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اس معاملے میں بار بار بات کی کہ بیماری کے دنوں میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنایا جائے یا نہیں۔ ان کی بات کا مقصد مخالفت نہیں تھا، بلکہ وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ جو شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی جگہ نماز میں کھڑا ہوگا، لوگ شاید اسے پسند نہ کر سکیں یا اس سے بدفالی لیں۔ اس سے ہمیں صحابہ کے دل کی نرمی، نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت، اور نماز کی امامت جیسے حساس معاملے کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ یہ واقعہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی نیک نیتی دونوں کو واضح کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کی امامت ایک اہم دینی ذمہ داری ہے، اسے معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کی بار بار بات کرنے کی وجہ دلی خیر خواہی تھی، ذاتی ضد نہیں۔
- صحابہ کرام نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی محبت اور امت کے احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے۔
- کسی معاملے میں اپنی بات رکھنا جائز ہے، جب نیت خیر خواہی کی ہو۔
