صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۶ - نزع کی شدت اور صبر
نزع کی شدت: نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان
صحیح بخاری : ۴۴۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۴۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي ، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان (سر رکھے ہوئے) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کی شدت سکرات) دیکھنے کے بعد اب میں کسی کے لیے بھی نزع کی شدت کو برا نہیں سمجھتی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نزع کی شدت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا سر ان کے جسم کے قریب تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نزع کی کیفیت دیکھنے کے بعد وہ کسی کے لیے موت کی سختی کو برا نہیں سمجھتیں۔ اس حدیث میں موت کی حقیقت بہت سادہ انداز میں سامنے آتی ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نزع کی تکلیف کسی انسان کی کمی کی علامت نہیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جیسی سب سے محبوب ہستی پر بھی موت کی سختی آئی۔ اس لیے جب کسی نیک آدمی پر بیماری یا موت کی سختی آئے تو اسے برا شگون یا اللہ کی ناراضی سمجھنا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- موت کی سختی خود بخود کسی انسان کے برے انجام کی دلیل نہیں ہوتی۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری لمحات کو بہت قریب سے دیکھا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کا واقعہ ہمیں موت کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔
- بیماری اور نزع میں صبر اور حسن ظن رکھنا چاہیے۔
