صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۷ - خلافت کے سوال میں احتیاط

خلافت کے بارے میں سوال: علی رضی اللہ عنہ کی احتیاط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۴۷

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا أَبَا حَسَنٍ ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " فَقَالَ : أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ لَهُ : أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ هَذَا ، إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ ؟ إِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ ، فَأَوْصَى بِنَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر آئے۔ یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ سے پوچھا: ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آج مزاج کیا ہے؟ صبح انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ اب آپ کو افاقہ ہے۔پھر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کے کہا کہ تم، اللہ کی قسم تین دن کے بعد زندگی گزارنے پر تم مجبور ہو جاؤ گے۔ اللہ کی قسم، مجھے تو ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے صحت نہیں پا سکیں گے۔ موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے۔اب ہمیں آپ کے پاس چلنا چاہئیے اور آپ سے پوچھنا چاہئیے کہ ہمارے بعد خلافت کسے ملے گی۔ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر کوئی دوسرا مستحق ہو گا تو وہ بھی معلوم ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق اپنے خلیفہ کو ممکن ہے کچھ وصیتیں کر دیں لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر ہم نے اس وقت آپ سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور آپ نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کر دیں گے۔ میں تو ہرگز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھوں گا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع خلافت کے بارے میں احتیاط ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس سے باہر آئے تو لوگوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کی طبیعت پوچھی۔ علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ الحمدللہ افاقہ ہے۔ پھر عباس رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھ لینا چاہیے کہ یہ معاملہ یعنی خلافت کس کے پاس ہوگا۔ اگر ہمارے لیے ہے تو معلوم ہو جائے، اور اگر کسی اور کے لیے ہے تو بھی بات واضح ہو جائے۔ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر ہم نے پوچھا اور آپ صلى الله عليه وسلم نے منع کر دیا تو لوگ بعد میں ہمیں یہ حق نہیں دیں گے۔ اس حدیث میں بڑے معاملے میں سوچ سمجھ، وقت شناسی، اور دینی ادب نمایاں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بڑے دینی اور اجتماعی معاملات میں جلد بازی کے بجائے سوچ سمجھ ضروری ہے۔
  • علی رضی اللہ عنہ نے سوال کے ممکنہ نتیجے کو سامنے رکھ کر احتیاط کی۔
  • صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی بیماری کے وقت بھی امت کے معاملات کے بارے میں فکر مند تھے۔
  • ہر اہم سوال کا وقت اور انداز سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں