غسل کے احکام

کل احادیث 315

غسل کے احکام اور آداب پر مبنی مستند احادیث مبارکہ

اسلام میں صفائی اور پاکیزگی کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اور غسل کے احکام ہمیں زندگی کے بنیادی آداب سکھاتے ہیں۔ ان احادیث مبارکہ کے مطابق، انبیاء کرام جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ایوب علیہ السلام تنہائی میں اور پردے کے ساتھ غسل فرماتے تھے، جو حیا اور پردہ داری کی اعلیٰ مثال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک سے بھی ثابت ہے کہ آپ غسل فرماتے وقت پردے کا خاص اہتمام کرتے تھے، جیسے فتح مکہ کے موقع پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے لیے پردہ کیا۔ اس کے علاوہ، عوامی مقامات یا حمام میں غسل کرنے کے حوالے سے واضح ہدایت دی گئی ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ بغیر تہبند یا ستر ڈھانپے حمام میں داخل نہ ہو۔ یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ غسل کے دوران بھی حیا، پردے اور شرعی حدود کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ " تَابَعَهُ وَهْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَلَمْ يَقُلْ غُنْدَرٌ ، وَيَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ .

´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہمیں نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے حکم کے واسطے سے بتلایا، وہ ذکوان سے، وہ ابوصالح سے، وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا، جی ہاں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی (کا کام) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے (غسل ضروری نہیں)۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَلَا يَغْتَسِلُ أَحَدُهُمَا بِفَضْلِ صَاحِبِهِ " .

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ۱؎۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أن رجلا ، نزل بعائشة ، فأصبح يغسل ثوبه ، فقالت عائشة " إِنَّمَا كَانَ يُجْزِئُكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ ، فَإِنْ لَمْ تَرَ ، نَضَحْتَ حَوْلَهُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا ، فَيُصَلِّي فِيهِ " .

‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ اور اسود رحمہ اللہ سے روایت ہے، ایک شخص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اترا، وہ صبح کو اپنا کپڑا دھونے لگا (شاید رات کو احتلام ہوگیا ہو گا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تجھے کافی تھا اگر منی تو نے دیکھی صرف اتنا مقام دھو ڈالتا اور جو نہیں دیکھی تو پانی گردا گرد چھڑک دیتا۔ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی چھیل ڈالتی (یعنی کھرچ ڈالتی اس لئے کہ وہ گاڑھی ہوتی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے کو پہن کر نماز پڑھتے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مَعْشَر ٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ وَمُغِيرَةَ ، كل هؤلاء ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي حَتِّ الْمَنِيِّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ .

‏‏‏‏ اس سند میں بھی گزشتہ حدیث والا مسئلہ آیا ہے۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .

‏‏‏‏ ایک اور سند سے وہی حدیث مروی ہے۔

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ كلهم ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَمَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فَحَدِيثُهُ ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ " ، وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ ، فَفِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

‏‏‏‏ اس سند سے حدیث کے الفاظ میں یہ فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود منی کو دھوتے مگر ابن مبارک اور عبدالواحد کی سند سے یہ الفاظ آئے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے دھوتی تھی۔

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ : غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ ،

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے کچھ الفاظ کی کمی کے ساتھ۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَالأَشَجُّ ، وَإِسْحَاق كُلُّهُمْ ، عَنْ وَكِيعٍ . ح وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا : إِفْرَاغُ ثَلَاثِ حَفَنَاتٍ عَلَى الرَّأْسِ ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَصْفُ الْوُضُوءِ كُلِّهِ ، يَذْكُرُ : الْمَضْمَضَةَ ، وَالِاسْتِنْشَاقَ فِيهِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، ذِكْرُ : الْمِنْدِيلِ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے مگر سر پر تین چلو کا ذکر نہیں وکیع سے بھی یہی روایت مروی ہے اس میں وضو کی مکمل ترتیب ہے اور انہوں نے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا بھی ذکر کیا ابومعاویہ کی حدیث میں رومال کا ذکر نہیں۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اغْتَسَلَ ، بَدَأَ بِيَمِينِهِ ، فَصَبَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ ، فَغَسَلَهَا ، ثُمَّ صَبَّ الْمَاءَ عَلَى الأَذَى الَّذِي بِهِ بِيَمِينِهِ ، وَغَسَلَ عَنْهُ بِشِمَالِهِ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ ، صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ " .

‏‏‏‏ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تو داہنے ہاتھ سے شروع کرتے پہلے اس پر پانی ڈالتے اور اس کو دھوتے پھر داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں ہاتھ سے بدن پر جو نجاست ہوتی اس کو دھوتے جب اس سے فراغت ہوتی تو سر پر پانی ڈالتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل ایک برتن سے کیا کرتے۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَتْ تَحْتَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، يَسَعُ ثَلَاثَةَ أَمْدَادٍ ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ " .

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے جس میں تین مد یا کچھ ایسا ہی پانی آتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں