اللہ کا ذکر

کل احادیث 189

اللہ کا ذکر: نبی اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی مسنون تسبیحات اور ان کی فضیلت

ان مبارک احادیث میں ہمیں اللہ کا ذکر کرنے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرنے کی بہترین رہنمائی ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا ہے کہ کسی بھی کام یا کلام کی شروعات 'الحمدللہ' سے نہ کی جائے تو وہ ادھورا اور برکت سے خالی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور آپ ﷺ کی چچا زاد بہنوں نے گھریلو مصائب اور تکالیف کے باعث خادم کا مطالبہ کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں دنیاوی خادم کے بدلے ذکر الہی کا تحفہ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد اور رات کو سوتے وقت ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ، ۳۳ مرتبہ الحمدللہ، اور ۳۳ یا ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا دنیا کے تمام خادموں اور آسائشوں سے بہتر ہے، جو انسان کو روحانی و جسمانی سکون فراہم کرتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَ " كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ الْإِنْسَانُ فِي قَبْرِهِ ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْدَ رَأْسِهِ " .

´ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی) آپ کے سرہانے ہوتی۔

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا ، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي ، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ " .

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نیند سے جب بیدار ہوتے یہ دعا پڑھتے: «لا إله إلا أنت سبحانك اللهم أستغفرك لذنبي وأسألك رحمتك اللهم زدني علما ولا تزغ قلبي بعد إذ هديتني وهب لي من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب» ”تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، پاک و برتر ہے تیری ذات، اے پروردگار! میں تجھ سے اپنے گناہ کی معافی چاہتا ہوں، تیری رحمت کا خواستگار ہوں، اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما، اور ہدایت مل جانے کے بعد میرے دل کو کجی سے محفوظ رکھ، مجھے اپنی رحمت سے نواز، بیشک تو بڑا نواز نے والا ہے“۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ حَسَنٍ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ إِحْدَاهُمَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ سَبْيًا ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ السَّبْيِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَقَكُنَّ يَتَامَى بَدْرٍ " ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ التَّسْبِيحِ ، قَالَ : عَلَى أَثَرِ كُلِّ صَلَاةٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّوْمَ .

´زبیر کی بیٹیوں ام الحکم یا ضباعہ میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم جس محنت و مشقت سے دو چار تھے اسے ہم نے بطور شکایت آپ کے سامنے پیش کیا، ہم نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں قیدی دیئے جانے کا آپ حکم فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں، (وہ پہلے آئیں اور پا گئیں اب قیدی نہیں بچے) پھر آپ نے تسبیح کے واقعہ کا ذکر کیا اس میں «في كل دبر صلاة» کے بجائے «على أثر كل صلاة» کہا اور سونے کا ذکر نہیں کیا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ أَوْ يُمْسِي : اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، أَعْتَقَ اللَّهُ رُبُعَهُ مِنَ النَّارِ ، فَمَنْ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ : أَعْتَقَ اللَّهُ نِصْفَهُ ، وَمَنْ قَالَهَا ثَلَاثًا : أَعْتَقَ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِهِ ، فَإِنْ قَالَهَا أَرْبَعًا : أَعْتَقَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ " .

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے  «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ: تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں“ تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُتَعَبِّدِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ يَزِيدُ : شَيْخٌ ثِقَةٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، كَفَاهُ اللَّهُ مَا أَهَمَّهُ صَادِقًا كَانَ بِهَا أَوْ كَاذِبًا " .

´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ  «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» ”کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے“ کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَقُلْ : أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبَرَكَتَهُ وَهُدَاهُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ ، ثُمَّ إِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ " .

´ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی اسناد سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے  «أصبحنا وأصبح الملك لله رب العالمين اللهم إني أسألك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه وأعوذ بك من شر ما فيه وشر ما بعده» ”ہم نے صبح کی اور ملک (پوری کائنات) نے صبح کی جو اللہ رب العالمین کا ہے، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس دن کی فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا طالب ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دن کی اور اس کے بعد کے دنوں کی برائی سے“ اور جب شام کرے تو بھی اسی طرح کہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى " .

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص  «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔ اس میں ہاتھ اور «باع» کا ذکر نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس روایت میں ”جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں“ مذکور نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فرمایا: ”اس کے لیے اس کی دس مثل ثواب ہوتا ہے اور میں زیادہ بھی عطا کرتا ہوں۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں