جامع ترمذی حدیث ۲۷۱۵ - سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
جامع ترمذی : ۲۷۱۵
جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۷۱۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ لَهُ كَلِمَاتٍ مِنْ كِتَابِ يَهُودَ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابٍ ، قَالَ : فَمَا مَرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ ، حَتَّى تَعَلَّمْتُهُ لَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا تَعَلَّمْتُهُ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ إِلَيْهِمْ ، وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ " .
زید بن ثابت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا“، چنانچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیکھ لیا اور آپ کو یہودیوں کے پاس کچھ لکھ کر بھیجنا ہوا تو میں نے لکھ کر ان کے پاس بھیج دیا، اور جب یہودیوں نے کوئی چیز لکھ کر آپ کے پاس بھیجی تو میں نے ان کی کتاب (تحریر) پڑھ کر آپ کو سنا دی۔
