قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
سنن ابو داؤد : ۳۲۴۲
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۲۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی دباؤ میں آ کر (یا دیدہ و دانستہ) جھوٹی قسم کھا لے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۱؎“۔
سنن ابو داؤد : ۳۲۴۳
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۲۴۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ : فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
´عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا“۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں (جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارے پاس گواہ ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ (سورۃ آل عمران: ۷۷) آخیر تک نازل فرمائی ۱؎۔
سنن ابو داؤد : ۳۲۴۴
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۲۴۴
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا ، وَهِيَ فِي يَدِهِ ، قَالَ : هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي ، اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيّ لِلْيَمِينِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضُهُ " .
´اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تمہارے پاس «بیّنہ» (ثبوت اور دلیل) ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، (یہ سن کر) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت) فرمایا: ”جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا“ (یہ سنا تو) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔
