قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراتوں کا بیان
سنن ابو داؤد : ۳۹۶۹
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۹۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 " .
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔“ (سورۃ البقرہ: ۱۲۴) (امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء) پڑھا۔
سنن ابو داؤد : ۳۹۷۰
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۹۷۰
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا كَائِنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أُسْقِطْتُهَا " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور (نماز میں) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ۱؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں“۔
سنن ابو داؤد : ۳۹۷۱
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۹۷۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : " وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ ، فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَعَلّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ .
´مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» ”نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔“ (سورۃ آل عمران: ۱۶۱) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
