علاج کے احکام و مسائل
سنن ابو داؤد : ۳۸۵۵
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۸۵۵
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ ، فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ هَا هُنَا وَهَهُنَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَدَاوَى ؟ ، فَقَالَ : تَدَاوَوْا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ " .
´اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے“۔
سنن ابو داؤد : ۳۸۵۶
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۸۵۶
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، وَهَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا ، وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ : مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ ، حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ ، قَالَتْ : وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا ، فَجِئْتُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ هَارُونُ الْعَدَوِيَّةَ .
´ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ٹھہرو (تم نہ کھاؤ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو“ یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے «عدویہ» ہے۔
سنن ابو داؤد : ۳۸۵۷
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۸۵۷
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر (بھلائی) ہے تو وہ سینگی (پچھنے) لگوانا ہے“۔
