سنن ابو داؤد حدیث ۲۱۱ - طہارت کے مسائل
سنن ابو داؤد : ۲۱۱
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۱۱
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ ، وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونَ بَعْدَ الْمَاءِ ، فَقَالَ : " ذَاكَ الْمَذْيُ ، وَكُلُّ فَحْلٍ يَمْذِي ، فَتَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجَكَ وَأُنْثَيَيْكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ " .
عبداللہ بن سعد انصاری روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو غسل کو واجب کرتی ہے، اور وہ پانی جو پانی کے بعد نکلتا ہے؟ (یعنی پیشاب کے بعد اس کا کیا حکم ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مذی ہوتی ہے، اور ہر نر (مرد) کی مذی نکلتی ہے، لہٰذا تم اپنی شرمگاہ اور اپنے دونوں فوطوں کو دھو ڈالو، اور وضو کرو جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو“۔
