حدیث ۲۱۰
سنن ابو داؤد : ۲۱۰
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۱۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً ، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ : يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ " .
´سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی، باربار غسل کرتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس میں صرف وضو کافی ہے“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو“۔
