سنن ابو داؤد حدیث ۳۳۰۰ - قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
سنن ابو داؤد : ۳۳۰۰
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۳۰۰
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، قَالُوا : هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ ، وَيَصُومَ ، قَالَ : مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ ، وَلْيَسْتَظِلَّ ، وَلْيَقْعُدْ ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے“۔
