صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۴ - سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم
سورج گرہن کی حدیث: کسوف کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم
صحیح بخاری : ۱۰۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۵۴
حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ " .
اسماء روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۴ کا خلاصہ
یہ حدیث حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔ اس روایت کا اصل موضوع سورج گرہن کی حدیث اور کسوف کے وقت نیکی کی طرف توجہ ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر پیغام صاف ہے: جب سورج گرہن جیسا واقعہ پیش آئے تو بندہ غفلت میں نہ رہے، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور ایسا عمل کرے جس میں خیر ہو۔ یہاں خاص طور پر غلام آزاد کرنے کا ذکر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر صرف تماشہ دیکھنا مقصود نہیں، بلکہ نیکی، رحم اور عملی بھلائی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اس حدیث میں نماز، خطبہ یا کسی اور عمل کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے یہاں بات صرف اسی حکم تک رکھی گئی ہے جو روایت میں صاف بیان ہوا ہے: سورج گرہن میں غلام آزاد کرنا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج گرہن کے وقت نیکی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
- اس حدیث میں خاص طور پر غلام آزاد کرنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- ایسے موقع پر غفلت کے بجائے عملی خیر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
- حدیث کا پیغام مختصر ہے مگر عمل پر زور دیتا ہے۔
