صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۵ - عذاب قبر سے پناہ کی حدیث
عذاب قبر کی حدیث: اللہ کی پناہ مانگنے کا سبق
صحیح بخاری : ۱۰۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۵۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا ، فَقَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ .
عائشہ روایت:
ایک یہودی عورت ان کے پاس کچھ مانگنے آئی۔ اس نے کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ قبر کے عذاب سے بچائے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا قبر میں بھی عذاب ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا کہ میں اللہ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عذاب قبر سے پناہ مانگنا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ مانگنے آئی۔ جاتے ہوئے اس نے دعا دی کہ اللہ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھی کہ کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ جواب میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ بندے کو آخرت کے معاملے کو معمولی نہیں لینا چاہیے۔ عذاب قبر کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب قبر کے عذاب کا ذکر آئے تو بحث بڑھانے کے بجائے اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بات سمجھنے کے لیے سوال کرنا درست ہے، جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر کے عذاب کا ذکر سن کر اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
- دینی بات سمجھ نہ آئے تو اہل علم سے سوال کرنا درست ہے۔
- آخرت کے معاملے میں انسان کو سنجیدہ رہنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عمل دعا اور اللہ کی طرف رجوع کا سبق دیتا ہے۔
