صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۷ - عورت کے سفر کے آداب اور محرم کا حکم
سفر میں عورت کے لیے محرم کی ہدایت
صحیح بخاری : ۱۰۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۸۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " ، تَابَعَهُ أَحْمَدُ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابن عمر روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت تین دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ اس روایت کی متابعت احمد نے ابن مبارک سے کی ان سے عبیداللہ عمری نے ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عورت تین دن کا سفر بغیر محرم کے نہ کرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت ملتی ہے۔ اس حکم کا مقصد عورت کے سفر کو محفوظ اور باعزت بنانا ہے۔ محرم کا ساتھ عورت کے لیے سہارا اور حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سفر کے آداب مقرر ہیں اور ہر حالت میں احتیاط کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ حکم عام حالات کے لیے ہے تاکہ کسی بھی مشکل سے بچا جا سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورت کے سفر میں محرم کا ہونا ضروری ہے
- اسلام سفر میں حفاظت کو ترجیح دیتا ہے
- محرم عورت کے لیے سہارا ہے
