صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۵ - نبی صلى الله عليه وسلم کی رات کی عبادت
نبی صلى الله عليه وسلم کی تلاوت، ہدایت اور رات کی عبادت کا بیان
صحیح بخاری : ۱۱۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُصُّ فِي قَصَصِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ أَخًا لَكُمْ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ : " وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ " , تَابَعَهُ عُقَيْلٌ ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ وَالْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ابوہریرہ روایت:
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہیثم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ اپنے وعظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ` تمہارے بھائی نے (اپنے نعتیہ اشعار میں) یہ کوئی غلط بات نہیں کہی۔آپ کی مراد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اشعار سے تھی جن کا ترجمہ یہ ہے: ”ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے۔ ہم تو اندھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا۔ ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بستر سے اپنے کو الگ کر کے گزارتے ہیں جبکہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں“۔یونس کی طرح اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور زبیدی نے یوں کہا سعید بن مسیب اور اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار کا ذکر ہے، جن کے بارے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی نے غلط بات نہیں کہی۔ اشعار میں بیان ہے کہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم موجود ہیں، جو فجر کے روشن ہونے پر اللہ کی کتاب سناتے ہیں۔ ہم گمراہی میں تھے، آپ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں ہدایت کا راستہ دکھایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی باتیں دلوں میں یقین بن کر بیٹھتی ہیں، اور جو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا وہ واقع ہو گا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم کی رات کی عبادت کا ذکر آتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم بستر سے پہلو الگ کرتے ہیں، جبکہ مشرک اپنے بستروں پر بوجھل پڑے ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی تلاوت قرآن، ہدایت اور قیام اللیل کا ذکر ایک محبت بھرے انداز میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم اللہ کی کتاب سناتے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے تھے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں نبی صلى الله عليه وسلم کی باتوں پر یقین تھا۔
- رات کی عبادت نبی صلى الله عليه وسلم کے مبارک معمول میں بیان ہوئی ہے۔
- نعتیہ کلام میں سچائی اور پاکیزہ مضمون ہو تو اس کی گنجائش ہے۔
