صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۶ - عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا خواب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا خواب اور اللہ کی پناہ
صحیح بخاری : ۱۱۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵۶
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ فَكَأَنِّي لَا أُرِيدُ مَكَانًا مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ إِلَيْهِ ، وَرَأَيْتُ كَأَنَّ اثْنَيْنِ أَتَيَانِي أَرَادَا أَنْ يَذْهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَتَلَقَّاهُمَا مَلَكٌ , فَقَالَ : لَمْ تُرَعْ خَلِّيَا عَنْهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ خواب دیکھا کہ گویا ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ ہے۔ جیسے میں جنت میں جس جگہ کا بھی ارادہ کرتا ہوں تو یہ ادھر اڑا کے مجھ کو لے جاتا ہے اور میں نے دیکھا کہ جیسے دو فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے دوزخ کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک فرشتہ ان سے آ کر ملا اور (مجھ سے) کہا کہ ڈرو نہیں (اور ان سے کہا کہ) اسے چھوڑ دو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے خواب کا ذکر ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے۔ وہ جنت میں جس جگہ کا ارادہ کرتے، وہ کپڑا انہیں وہاں لے جاتا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ دو فرشتے ان کے پاس آئے اور انہیں دوزخ کی طرف لے جانا چاہتے تھے۔ اسی وقت ایک فرشتہ ملا اور اس نے کہا کہ ڈرو نہیں، اسے چھوڑ دو۔ اس حدیث میں خواب کا بیان ہے، اس سے اپنی طرف سے زائد معنی نہیں نکالنے چاہییں۔ اصل بات اتنی ہے کہ یہ خواب نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں دیکھا گیا اور اس میں جنت، فرشتوں، آگ کی طرف لے جانے اور پھر نہ ڈرنے کی بات آئی۔ اس طرح کی روایت بندے کو اللہ کی پناہ اور نیکی کی فکر یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں اپنے خواب بیان کیا کرتے تھے۔
- خواب میں جنت اور دوزخ کے مناظر کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- ڈرو نہیں کے الفاظ اس خواب میں اطمینان کا پہلو دکھاتے ہیں۔
- ایسی روایات سے انسان اللہ کی پناہ اور نیکی کی فکر یاد رکھتا ہے۔
