صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۷ - عبداللہ رضی اللہ عنہ اور رات کی نماز
رات کی نماز کی ترغیب: عبداللہ رضی اللہ عنہ اچھے آدمی ہیں
صحیح بخاری : ۱۱۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵۷
فَقَصَّتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى رُؤْيَايَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ .
حفصہ روایت:
´میری بہن (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ایک خواب بیان کیا` تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بڑا ہی اچھا آدمی ہے کاش رات کو بھی نماز پڑھا کرتا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد ہمیشہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رات کی نماز کی ترغیب بہت مختصر مگر مؤثر انداز میں آتی ہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا خواب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بڑا اچھا آدمی ہے، کاش رات کو بھی نماز پڑھا کرتا۔ اس کے بعد عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس روایت میں دو باتیں صاف ہیں: ایک یہ کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خوبی بیان کی، دوسری یہ کہ رات کی نماز کی طرف نرمی سے توجہ دلائی۔ یہ نصیحت ایسی تھی جس نے ان کے معمول کو بدل دیا۔ تہجد کی نماز یا قیام اللیل کا شوق اسی طرح نرم یاد دہانی سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اچھے انسان کو بھی مزید نیکی کی طرف بڑھنے کی ضرورت رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے رات کی نماز کی ترغیب نرم انداز میں دی۔
- اچھے انسان کو بھی نیکی میں مزید آگے بڑھنے کی نصیحت ہو سکتی ہے۔
- صحابی نے نصیحت سن کر رات کی نماز کا معمول اپنا لیا۔
- قیام اللیل ایک ایسا عمل ہے جس کی طرف رغبت دلائی گئی ہے۔
