صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۹ - تہجد اور فجر کی دو سنتیں

تہجد کی آٹھ رکعتیں اور فجر کی دو سنتوں کا معمول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ , قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءَيْنِ ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعْهُمَا أَبَدًا " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی پھر رات کو اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں صبح کی اذان و اقامت کے درمیان پڑھیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے (فجر کی سنتوں پر مداومت ثابت ہوئی)۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی رات کی نماز اور فجر کی دو سنتوں کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر رات کو اٹھ کر تہجد کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں، اور دو رکعتیں صبح کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھیں۔ ان دو رکعتوں کے بارے میں آیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم انہیں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ اس حدیث میں تہجد کی نماز کے ساتھ فجر کی سنتوں کی پابندی بھی سامنے آتی ہے۔ فجر کی دو سنتیں بہت مختصر وقت میں ہوتی ہیں، مگر نبی صلى الله عليه وسلم کے معمول میں ان کی مداومت بیان ہوئی ہے۔ اس لیے نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ان کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم عشاء کے بعد رات میں تہجد پڑھتے تھے۔
  • فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتوں کا خاص اہتمام تھا۔
  • فجر کی دو سنتوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • رات کی نفل نماز اور فجر کی سنت دونوں حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں