صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۲ - التحیات اور تشہد کا مسنون طریقہ

تشہد میں التحیات پڑھنے کا مسنون طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۰۲

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كُنَّا نَقُولُ التَّحِيَّةُ فِي الصَّلَاةِ وَنُسَمِّي وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ , فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : قُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

ہم پہلے نماز میں یوں کہا کرتے تھے فلاں پر سلام اور نام لیتے تھے۔ اور آپس میں ایک شخص دوسرے کو سلام کر لیتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا اس طرح کہا کرو۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”یعنی ساری تحیات، بندگیاں اور کوششیں اور اچھی باتیں خاص اللہ ہی کے لیے ہیں اور اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر سلام ہو اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اگر تم نے یہ پڑھ لیا تو گویا اللہ کے ان تمام صالح بندوں پر سلام پہنچا دیا جو آسمان اور زمین میں ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۲ کا خلاصہ

یہ حدیث تشہد، التحیات، نماز میں سلام اور کلمہ شہادت کے بارے میں ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے نماز میں لوگ مختلف نام لے کر سلام کہتے تھے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں ایک جامع دعا سکھائی: التحیات لله والصلوات والطيبات۔ اس میں بندگی، اچھی باتیں اور دعائیں اللہ کے لیے خاص کی گئی ہیں، پھر نبی صلى الله عليه وسلم پر سلام، رحمت اور برکت کی دعا ہے، پھر اپنے لیے اور اللہ کے نیک بندوں کے لیے سلام ہے۔ آخر میں توحید اور رسالت کی گواہی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اندر الفاظ بھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کے مطابق ہونے چاہئیں۔ التحیات کی حدیث اردو میں تلاش کرنے والے کے لیے یہ روایت بہت بنیادی اور آسان رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تشہد کے الفاظ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کے مطابق پڑھنے چاہئیں۔
  • التحیات میں اللہ کی بڑائی، نبی صلى الله عليه وسلم پر سلام، اور ایمان کی گواہی شامل ہے۔
  • اس دعا کے ذریعے آسمان و زمین کے نیک بندوں پر سلام پہنچتا ہے۔
  • نماز کے اندر اپنی مرضی کے الفاظ کے بجائے مسنون الفاظ کو اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں