صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۱ - نماز میں امام کو متوجہ کرنے کا طریقہ
نماز میں امام کو متوجہ کرنے کا صحیح طریقہ
صحیح بخاری : ۱۲۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۰۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ ، فَجَاءَ بِلَالٌ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقَالَ : حُبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَؤُمُّ النَّاسَ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شِئْتُمْ ، فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ يَشُقُّهَا شَقًّا حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَأَخَذَ النَّاسُ بِالتَّصْفِيحِ ، قَالَ سَهْلٌ : هَلْ تَدْرُونَ مَا التَّصْفِيحُ ؟ هُوَ التَّصْفِيقُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا الْتَفَتَ ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ فَأَشَارَ إِلَيْهِ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى " .
سہل بن سعد روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف (قباء) کے لوگوں میں صلح کروانے تشریف لائے، اور جب نماز کا وقت ہو گیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اب تک نہیں تشریف لائے اس لیے اب آپ نماز پڑھائیے۔ انہوں نے فرمایا اچھا اگر تمہاری خواہش ہے تو میں پڑھا دیتا ہوں۔ خیر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نماز شروع کی۔اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف تک پہنچ گئے۔ لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا۔ (سہل نے) کہا کہ جانتے ہو «تصفيح» کیا ہے یعنی تالیاں بجانا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف بھی دھیان نہیں کیا کرتے تھے، لیکن جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صف میں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر کیا اور الٹے پاؤں پیچھے آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں امام کو متوجہ کرنے کا طریقہ اور جماعت کی ترتیب ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بنو عمرو بن عوف میں صلح کروانے گئے، نماز کا وقت ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے امامت کی درخواست کی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے، پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم تشریف لائے اور پہلی صف تک پہنچے۔ لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو متوجہ کیا۔ اس واقعہ سے نماز میں اشارہ، امام کی پیروی، جماعت کی ترتیب، اور صحابہ کا ادب سمجھ آتا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کو دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کیا اور پیچھے ہٹ گئے۔ یہ حدیث نماز میں توجہ، ادب اور نظم کی ایک سادہ مگر بہت اہم تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز باجماعت میں نظم اور ترتیب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
- امام کو متوجہ کرنے کے لیے نماز کے اندر غیر ضروری حرکت سے بچنا چاہیے۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ کا عمل نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے ادب اور احترام کو ظاہر کرتا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم صلح کرانے کے لیے خود تشریف لے گئے، اس سے اصلاح بین الناس کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
