صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۴ - مردوں کی تسبیح اور عورتوں کی تصفیح
نماز میں مردوں کے لیے تسبیح اور عورتوں کے لیے تصفیح
صحیح بخاری : ۱۲۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۰۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "التَّسْبِيحُ للرِّجَالِ وَالتَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ " .
سہل بن سعد روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۴ کا خلاصہ
یہ حدیث نہایت مختصر ہے مگر نماز کے ایک اہم ادب کو صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔ یہاں تالی سے مراد نماز کے اندر ضرورت کے وقت ہاتھ پر ہاتھ مار کر امام کو متوجہ کرنا ہے۔ اس حدیث کا تعلق نماز میں امام کو متوجہ کرنے، نماز میں تسبیح، اور عورتوں کے لیے تصفیح کے طریقے سے ہے۔ اس میں لمبی گفتگو یا نماز سے باہر والی عام تالی مراد نہیں، بلکہ نماز کی حالت میں ضرورت کے وقت ایک اشارہ مراد ہے۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت میں بھی ترتیب، سکون اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے مطابق عمل کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں مردوں کے لیے مناسب اشارہ سبحان اللہ کہنا ہے۔
- عورتوں کے لیے حدیث میں تصفیح یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا بیان ہوا ہے۔
- نماز کے اندر ہر عمل ضرورت اور ادب کے ساتھ ہونا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نماز کے چھوٹے چھوٹے آداب بھی واضح فرمائے۔
