صحیح بخاری حدیث ۱۲۲۱ - نماز کے فوراً بعد مال کی تقسیم کا سبق
سونا تقسیم کرنے کی حدیث: امانت اور صدقہ کا فوری احساس
صحیح بخاری : ۱۲۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۲۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا دَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ , فَقَالَ : ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا ، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ " .
عقبہ بن حارث روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے ہی بڑی تیزی سے اٹھے اور اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں تشریف لے گئے، پھر باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جلدی پر اس تعجب و حیرت کو محسوس کیا جو صحابہ کے چہروں سے ظاہر ہو رہا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں مجھے سونے کا ایک ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تقسیم سے باقی رہ گیا تھا۔ مجھے برا معلوم ہوا کہ ہمارے پاس وہ شام تک یا رات تک رہ جائے۔ اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام امانت، صدقہ اور مال کے بارے میں بہت صاف ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، سلام پھیرا اور فوراً تیزی سے گھر تشریف لے گئے۔ صحابہ کے چہروں پر حیرت دیکھی تو وجہ خود بتا دی کہ نماز میں سونے کا ایک ڈلا یاد آ گیا تھا جو تقسیم سے بچ گیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کو یہ پسند نہ آیا کہ وہ شام یا رات تک گھر میں پڑا رہے، اس لیے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مال تقسیم کے لیے ہو، اسے بلا وجہ روکنا مناسب نہیں۔ نماز کے بعد جلدی کرنے کی وجہ کوئی دنیاوی لالچ نہیں تھی، بلکہ حق داروں تک مال پہنچانے کی فکر تھی۔ یہی اس روایت کا عام فہم سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو مال تقسیم کے لیے ہو اسے بلا وجہ روکنے سے بچنا چاہیے۔
- نیکی کا خیال آئے تو مناسب موقع پر جلد عمل کرنا بہتر ہے۔
- صحابہ کی حیرت دور کرنے کے لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے وجہ صاف بیان فرمائی۔
