صحیح بخاری حدیث ۱۲۲۰ - کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے ممانعت
کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے کی ممانعت
صحیح بخاری : ۱۲۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۲۰
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " نُهِيَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلو پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۲۰ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز کی حالت میں جسم کے انداز سے متعلق ایک صاف حکم بیان کرتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی پہلو یا کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے۔ اس حدیث کا موضوع نماز کی ہیئت، نماز کا ادب، اور غیر مناسب انداز سے بچنا ہے۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس کی شرح میں بھی اصل حکم ہی کو سامنے رکھنا چاہیے۔ نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا، پہلو پر ہاتھ رکھنا، اور نماز کی صحیح حالت جیسے الفاظ اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں صرف پڑھنا ہی نہیں، بلکہ کھڑے ہونے اور ہاتھ رکھنے کا انداز بھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کمر یا پہلو پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
- نماز میں جسمانی انداز بھی سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔
- مختصر حکم کو سادہ انداز میں قبول کرنا چاہیے۔
- نماز میں ادب، سکون اور مناسب ہیئت کا خیال رکھا جائے۔
