صحیح بخاری حدیث ۱۲۱۹ - نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت
نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے ممانعت
صحیح بخاری : ۱۲۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۱۹
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " نُهِيَ عَنْ الْخَصْرِ فِي الصَّلَاةِ " ، وَقَالَ هِشَامٌ وَأَبُو هِلَالٍ : عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ ہشام اور ابوہلال محمد بن سلیم نے، ابن سیرین سے اس حدیث کو روایت کیا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کی ہیئت اور جسمانی ادب کا ایک مختصر حکم بیان ہوا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اسی حد تک بات کرنی چاہیے کہ نماز میں اس انداز سے کھڑے ہونے یا ہاتھ رکھنے سے ممانعت آئی ہے۔ یہ روایت نماز میں خشوع، جسمانی سکون، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دی ہوئی نماز کی شکل کو اختیار کرنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ نماز میں ہاتھ کمر پر رکھنا، نماز کی ہیئت، اور نماز کے آداب اس حدیث کے اہم تلاش کیے جانے والے الفاظ ہیں۔ چونکہ حدیث صرف ممانعت بتاتی ہے، اس لیے اس سے آگے بڑھ کر کوئی اضافی وجہ قطعی طور پر بیان نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
- نماز کی ظاہری ہیئت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔
- مختصر حدیث میں جو حکم آیا ہے اسے اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔
- نماز میں کھڑے ہونے کا انداز ادب اور سکون کے ساتھ ہونا چاہیے۔
