صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۰ - نابالغ اولاد
نابالغ بچوں کی وفات کی حدیث کی وضاحت
صحیح بخاری : ۱۲۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۵۰
وَقَالَ شَرِيكٌ : عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ .
ابوسعید اور ابوہریرہ روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ وہ بچے مراد ہیں جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۰ کا خلاصہ
یہ مختصر روایت پچھلی بات کی ایک ضروری وضاحت دیتی ہے۔ اس میں ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ذکر آیا ہے، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ مراد وہ بچے ہیں جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ حدیث میں بچوں کی وفات کے بارے میں جو تسلی دی گئی ہے، اس کا تعلق نابالغ بچوں سے ہے۔ دینی بات سمجھتے وقت ایسے الفاظ پر توجہ ضروری ہے، کیونکہ کبھی ایک چھوٹا سا جملہ حکم یا معنی کی حد واضح کر دیتا ہے۔ اس لیے حدیث کو پورے دھیان سے پڑھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ میں بچوں سے مراد نابالغ بچے ہیں۔
- صحابی کی وضاحت معنی کو محدود اور واضح کر دیتی ہے۔
- دینی بات سمجھنے میں چھوٹے الفاظ بھی اہم ہوتے ہیں۔
- حدیث کو مکمل عبارت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
