صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۲ - صبر
قبر پر رونے والی عورت اور صبر کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۲۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۵۲
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي , فَقَالَ : اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں صبر کی سیدھی اور بہت مختصر نصیحت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ روایت کے دیے گئے حصے میں بس اتنا ہی بیان ہے، اس لیے اصل بات یہی ہے کہ غم کے وقت بندہ اللہ کو یاد رکھے اور اپنے دل کو صبر کی طرف لائے۔ قبر پر رونا ایک تکلیف دہ لمحے کی نشان دہی کرتا ہے، مگر نبی صلى الله عليه وسلم کی نصیحت یہ ہے کہ غم میں بھی اللہ کا خیال دل میں رہے۔ صبر کا مطلب بے حس ہونا نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کے سامنے خود کو سنبھالنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غم کے وقت اللہ کا خوف دل میں رکھنا چاہیے۔
- صبر کا حکم براہ راست نبی صلى الله عليه وسلم نے دیا۔
- قبر کے پاس بھی زبان اور دل کو سنبھالنا ضروری ہے۔
- صبر بے حسی نہیں، اللہ کے حکم کے سامنے خود کو روکنا ہے۔
