صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۹ - غسل اور بال
غسل میت میں تین، پانچ، سات بار اور بالوں کی لٹیں
صحیح بخاری : ۱۲۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۵۹
وَقَالَتْ : إِنَّهُ قَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ سَبْعًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ، قَالَتْ حَفْصَةُ : قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ .
ام عطیہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دے سکتی ہو۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے ان کے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں غسل میت کے عدد اور بالوں کے بارے میں ایک خاص بات آئی ہے۔ روایت میں ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تین، پانچ، سات مرتبہ، یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دے سکتی ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غسل کی تعداد ضرورت کے مطابق طاق عدد میں ہو سکتی ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔ حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ انہوں نے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کیے تھے۔ اس میں میت کی صفائی کے ساتھ بالوں کو سنوارنے کا بھی ذکر ہے، مگر ہمیں اسی بیان تک رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل کی تعداد تین، پانچ یا سات بیان ہوئی ہے۔
- ضرورت محسوس ہو تو اس سے زیادہ کا ذکر بھی روایت میں ہے۔
- سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کیے گئے۔
- غسل میت میں صفائی کے ساتھ ترتیب کا بھی خیال رکھا گیا۔
