صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۰ - بالوں کا غسل

میت کے بال دھونے اور تین چٹیاں بنانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۶۰

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَيُّوبُ : وَسَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ , قَالَتْ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ نَقَضْنَهُ ، ثُمَّ غَسَلْنَهُ ، ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " .

ام عطیہ روایت:

´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے بیان کیا کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ پہلے بال کھولے گئے پھر انہیں دھو کر ان کی تین چٹیاں کر دی گئیں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۰ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کے غسل کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ان کے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کیے گئے۔ پہلے بال کھولے گئے، پھر انہیں دھویا گیا، پھر دوبارہ تین چٹیاں بنا دی گئیں۔ حدیث کے الفاظ بہت عملی ہیں اور اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ غسل کے وقت بالوں کو کھول کر دھویا گیا اور پھر تین حصوں میں کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے جسم ہی نہیں، سر کے بالوں کی صفائی اور ترتیب کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ غسل میت میں نرمی، صفائی اور احترام بنیادی باتیں ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غسل کے لیے بال پہلے کھولے گئے۔
  • بالوں کو دھو کر دوبارہ تین چٹیاں بنائی گئیں۔
  • میت کے سر اور بالوں کی صفائی کا بھی خیال رکھا گیا۔
  • حدیث کے الفاظ عملی طریقہ بتاتے ہیں، اس سے آگے دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں