صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۱ - میت کو غسل دینے کا مسنون طریقہ
غسل میت کی حدیث: پانی، بیری کے پتے اور کافور کا طریقہ
صحیح بخاری : ۱۲۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۶۱
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ , قَال : سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ : جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنَ اللَّاتِي بَايَعْنَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ ، فَحَدَّثَتْنَا , قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي , قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ ، وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ الْفُفْنَهَا فِيهِ ، وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ وَلَا تُؤْزَرَ .
ابن سیرین روایت:
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، ایک عورت آئی، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی۔ لیکن وہ نہ ملا۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کر لینا۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا۔انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں (تو اطلاع دی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار عنایت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں (یہ ایوب نے کہا) اور انہوں نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع غسل میت کی حدیث ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انہیں تین یا پانچ مرتبہ غسل دو، اور اگر ضرورت سمجھو تو اس سے زیادہ بھی کر سکتی ہو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے دیا جائے، اور آخری غسل میں کافور استعمال کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے غسل میں صفائی، نرمی اور ترتیب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ غسل مکمل ہونے پر آپ صلى الله عليه وسلم کو خبر دی گئی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے بدن سے لگا کر لپیٹ دو۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ میت کی تیاری احترام کے ساتھ کی جائے اور جو بات متن میں آئی ہے اسی تک بات رکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کو غسل دیتے وقت صفائی اور احتیاط کا خیال رکھا جائے۔
- غسل تین، پانچ یا ضرورت کے مطابق زیادہ مرتبہ دیا جا سکتا ہے۔
- آخری غسل میں کافور استعمال کرنے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- میت کو کفن دیتے وقت عزت اور پردے کا خیال رکھا جائے۔
