صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۹ - تین دن سے زیادہ سوگ نہیں
سوگ کی مدت کی حدیث: شوہر کے سوا تین دن سے زیادہ نہیں
صحیح بخاری : ۱۲۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۷۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , قَالَ : تُوُفِّيَ ابْنٌ لِأُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَتَمَسَّحَتْ بِهِ , وَقَالَتْ " نُهِينَا أَنْ نُحِدَّ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ إِلَّا بِزَوْجٍ " .
محمد بن سیرین روایت:
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے ”صفرہ خلوق“ (ایک قسم کی زرد خوشبو) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوگ کی مدت کا بیان ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کا انتقال ہوا۔ تیسرے دن انہوں نے زرد خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا۔ پھر فرمایا کہ ہمیں شوہر کے سوا کسی اور پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس روایت میں عمل اور قول دونوں موجود ہیں۔ انہوں نے خوشبو اس لیے استعمال کی کہ حکم واضح ہو جائے کہ عام میت پر سوگ تین دن سے زیادہ نہیں رکھا جاتا۔ متن میں شوہر کا استثنا بھی موجود ہے، لیکن اس حدیث میں شوہر کی پوری مدت نہیں بتائی گئی؛ وہ اگلی روایت میں آتی ہے۔ اس لیے یہاں اصل موضوع سوگ کے عمومی حکم اور تین دن کی حد تک محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کے سوا کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ سے منع کیا گیا۔
- ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن خوشبو استعمال کی۔
- حدیث میں حکم سمجھانے کے لیے عملی مثال موجود ہے۔
- سوگ کے حکم میں شوہر کا استثنا الگ سے بیان ہوا ہے۔
