صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۵ - جنازہ لے کر جلد چلو
جنازہ جلد لے جانے کی حدیث اور اس کی حکمت
صحیح بخاری : ۱۳۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۱۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کر رہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۵ کا خلاصہ
یہ حدیث جنازہ جلد لے جانے کی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو۔ پھر وجہ بھی بیان فرمائی کہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف جلد پہنچا رہے ہو، اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔ اس حدیث میں جلدی کا مطلب جنازہ کے معاملے کو بے وجہ روکنے اور دیر کرنے سے بچنا ہے۔ حدیث نیکی کے انجام کی امید بھی دلاتی ہے اور غیر نیک انجام سے خبردار بھی کرتی ہے۔ اس میں جنازہ اٹھانے والوں کے لیے بھی عملی رہنمائی ہے کہ میت کے معاملے کو سنجیدگی سے، مگر تاخیر کے بغیر انجام دیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنازہ لے جانے میں غیر ضروری دیر سے بچنے کا حکم دیا گیا۔
- نیک میت کو بھلائی کی طرف لے جانے کی بات حدیث میں آئی ہے۔
- اگر میت نیک نہ ہو تو اسے بوجھ کی طرح گردنوں سے اتارنے کا ذکر ہے۔
- جنازہ کے معاملے میں سنجیدگی اور بروقت عمل دونوں مطلوب ہیں۔
