صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۴ - نیک میت کہتی ہے آگے لے چلو
نیک میت کی آواز: جنازہ اٹھانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۱۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ : قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ ، إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهُ صَعِقَ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور مرد اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ مجھے آگے لے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں تو کہتا ہے ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام اللہ کی مخلوق سنتی ہے۔ اگر انسان کہیں سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۴ کا خلاصہ
یہ حدیث جنازہ اٹھانے کے وقت میت کے حال کے بارے میں خبر دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نیک نہ ہو تو کہتی ہے: ہائے بربادی، مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اس آواز کو انسان کے سوا اللہ کی مخلوق سنتی ہے، اور اگر انسان سن لے تو بیہوش ہو جائے۔ اس حدیث کا موضوع جنازہ، نیکی کا انجام، اور آخرت کی یاد ہے۔ یہ ہمیں ڈرانے کے ساتھ سنجیدہ بھی کرتی ہے کہ زندگی کا عمل آخر کار سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں نیک اور غیر نیک میت کے حال کا فرق بیان ہوا ہے۔
- جنازہ اٹھنے کا وقت آخرت کی یاد دلاتا ہے۔
- انسان اس آواز کو نہیں سنتا، مگر حدیث اس حقیقت کی خبر دیتی ہے۔
- نیکی کی زندگی کا انجام امید والا بتایا گیا ہے۔
