صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۳ - صحابہ کا جنازہ کے لیے کھڑا ہونا
صحابہ کا عمل: جنازہ کے لیے کھڑے ہونا
صحیح بخاری : ۱۳۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۱۳
وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , قَالَ : كُنْتُ مَعَ قَيْسٍ وسَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقَالَا : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ : عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى : كَانَ أَبُو مَسْعُودٍ وقَيْسٌ يَقُومَانِ لِلْجَنَازَةِ .
قیس اور سہل روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اور زکریا نے کہا ان سے شعبی نے اور ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ ابومسعود اور قیس رضی اللہ عنہما جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۳ کا خلاصہ
یہ روایت جنازہ کے لیے کھڑے ہونے کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کو بیان کرتی ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کے حوالے سے آتا ہے کہ وہ قیس اور سہل رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، اور ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے کا ذکر کیا۔ دوسری سند میں یہ بھی آیا کہ ابومسعود اور قیس رضی اللہ عنہما جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ اصل بات یہی ہے کہ جنازہ کے موقع پر کھڑے ہونے کا عمل صحابہ کے ہاں موجود تھا۔ اس سے جنازہ کے آداب اور نبوی طریقے کی پیروی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ ہمیں اسی حد تک بات رکھنی چاہیے جو روایت میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنازہ کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔
- روایت میں قیس، سہل اور ابومسعود رضی اللہ عنہم کا عمل ذکر ہوا۔
- جنازہ کے موقع پر ادب کا عمل صحابہ کے ہاں محفوظ تھا۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے اسی کے الفاظ تک بات محدود رکھنی چاہیے۔
