صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۲ - کیا یہ جان نہیں؟
کیا یہ جان نہیں؟ جنازہ کے ادب کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۱۲
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى , قَالَ : كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا ، فَقِيلَ لَهُمَا : إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَيْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ ، فَقَالَا : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ , فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، فَقَالَ : أَلَيْسَتْ نَفْسًا " .
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ روایت:
سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں بزرگ کھڑے ہو گئے۔ عرض کیا گیا کہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے (جو کافر ہیں) اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہودی کی جان نہیں ہے؟
صحیح بخاری حدیث ۱۳۱۲ کا خلاصہ
یہ حدیث جنازہ کے ادب کو بہت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کرتی ہے۔ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما بیٹھے تھے، ایک جنازہ گزرا تو دونوں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو ذمیوں کا جنازہ ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی ایک جنازہ گزرا، آپ کھڑے ہو گئے۔ جب بتایا گیا کہ یہ یہودی کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ جان نہیں؟ اس حدیث کا اصل موضوع جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا اور انسان کی جان کے معاملے میں سنجیدگی ہے۔ حدیث میں جو جملہ آیا ہے، وہ میت کے معاملے میں غفلت سے بچاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جنازہ گزرتے دیکھ کر کھڑے ہونے کا عمل کیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے جنازے پر بھی کھڑے ہونے کا واقعہ بیان فرمایا۔
- کیا یہ جان نہیں؟ کا جملہ میت کے معاملے میں سنجیدگی سکھاتا ہے۔
- جنازہ دیکھتے وقت غفلت یا ہلکے پن سے بچنا چاہیے۔
