صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۷ - نجاشی کے لیے مغفرت کی دعا
نجاشی کی وفات اور مسلمان بھائی کے لیے مغفرت کی دعا
صحیح بخاری : ۱۳۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۲۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ , أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ يَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی ‘ اسی دن جس دن ان کا انتقال ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے اللہ سے مغفرت چاہو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع نجاشی کے لیے دعا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن ان کا انتقال ہوا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے اللہ سے مغفرت چاہو۔ حدیث کے الفاظ سادہ ہیں، مگر ان میں مسلمان بھائی چارے کا واضح سبق ہے۔ یہاں اصل زور وفات کی خبر اور مغفرت کی دعا پر ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے نجاشی کو اپنے بھائی کے طور پر یاد کیا اور صحابہ کو استغفار کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے انتقال پر اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا اہم عمل ہے، چاہے وہ دور علاقے میں ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کے انتقال پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے نجاشی کو بھائی کہہ کر یاد فرمایا، جس سے دینی رشتہ ظاہر ہوتا ہے۔
- وفات کی خبر ملنے پر اصل کام میت کے لیے دعا ہے، نہ کہ صرف خبر بیان کرنا۔
