صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۶ - رات میں دفن میت پر نماز جنازہ
رات دفن ہونے والی میت پر قبر کے پاس نماز جنازہ
صحیح بخاری : ۱۳۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۲۶
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا , فَقَالُوا : هَذَا دُفِنَ أَوْ دُفِنَتِ الْبَارِحَةَ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : فَصَفَّنَا خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر تشریف لائے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس میت کو گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ (صاحب قبر مرد تھا یا عورت تھی) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی قبر پر نماز جنازہ کا عمل بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک قبر پر تشریف لائے۔ صحابہ نے بتایا کہ اس میت کو گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ روایت میں الفاظ سے یہ بات بھی آتی ہے کہ صاحب قبر مرد تھا یا عورت، اس میں راوی کو شک ہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آپ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور آپ صلى الله عليه وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ میت کے لیے دعا اور جنازہ کا حق اہم ہے۔ ساتھ ہی روایت کے الفاظ میں جو بات یقینی نہیں تھی، اسے اسی طرح بیان کیا گیا؛ اس سے حدیث نقل کرنے میں امانت داری کا انداز بھی سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات میں دفن ہو جانے کے بعد بھی اس روایت میں قبر پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔
- صحابہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے پیچھے صف بندی کی، یعنی جنازہ جماعت کے انداز میں پڑھا گیا۔
- راوی نے جہاں شک تھا، وہاں اسے صاف بیان کیا؛ یہ نقل روایت میں احتیاط ہے۔
