صحیح بخاری حدیث ۱۳۳۱ - عورت کے جنازہ میں امام کی جگہ
عورت کے جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو؟
صحیح بخاری : ۱۳۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۳۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا " .
سمرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت (ام کعب) کی نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا نفاس میں انتقال ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عورت کی نماز جنازہ میں نبی صلى الله عليه وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ بیان ہوئی ہے۔ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی اقتدا میں ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی جس کا نفاس میں انتقال ہوا تھا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔ روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنازہ عورت کا تھا، موت نفاس کی حالت میں ہوئی، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے اس کے وسط کے مقابل جگہ اختیار فرمائی۔ اس حدیث میں اصل بحث یہی ہے، اس لیے اسے عام جنازہ کے پورے طریقے تک نہیں پھیلانا چاہیے۔ جو شخص عورت کے جنازہ میں امام کی جگہ کے بارے میں حدیث تلاش کرتا ہے، اس کے لیے یہ روایت واضح الفاظ رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورت کے جنازہ میں نبی صلى الله عليه وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔
- صحابی نے خود نبی صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھنے کا مشاہدہ نقل کیا۔
- حدیث میں نفاس میں وفات کا ذکر ہے، اس لیے واقعہ کو اسی طرح بیان کرنا چاہیے۔
