صحیح بخاری حدیث ۱۳۳۶ - الگ تھلگ قبر پر نماز جنازہ

الگ تھلگ قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۳۶

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ , قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , قَالَ : " أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَلَّوْا خَلْفَهُ " ، قُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا يَا أَبَا عَمْرٍو ؟ قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا .

شعبی روایت:

مجھے اس صحابی نے خبر دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر سے گزرے تھے۔ قبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام بنے اور صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ شیبانی نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو! یہ آپ سے کس صحابی نے بیان کیا تھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۳۶ کا خلاصہ

یہ روایت قبر پر نماز جنازہ کے موضوع کو ایک بار پھر بیان کرتی ہے۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہیں اس صحابی نے خبر دی جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے تھے۔ وہاں نبی صلى الله عليه وسلم امام بنے اور صحابہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ جب پوچھا گیا کہ یہ بات کس صحابی نے بیان کی ہے تو بتایا گیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ قبر پر نماز جنازہ کا ایک نبوی عمل بیان ہوا، اور اس میں امام کے پیچھے صحابہ نے نماز پڑھی۔ روایت میں جو معلومات آئی ہیں، وہ مختصر ہیں مگر نماز جنازہ، صف، امام اور قبر کے تعلق کو واضح کرتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قبر الگ تھلگ ہو تب بھی نبی صلى الله عليه وسلم نے وہاں نماز جنازہ پڑھائی۔
  • صحابہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، یعنی جماعت کا انداز برقرار رہا۔
  • راوی سے صحابی کا نام پوچھنا حدیث کے علم میں احتیاط کی مثال ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں