صحیح بخاری حدیث ۱۳۴۸ - قرآن والے شہید کی فضیلت
قرآن کی فضیلت: شہداء احد میں قرآن والے کو آگے رکھنا
صحیح بخاری : ۱۳۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۴۸
أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِقَتْلَى أُحُدٍ : أَيُّ هَؤُلَاءِ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ؟ , فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى رَجُلٍ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ قَبْلَ صَاحِبِهِ ، وَقَالَ جَابِرٌ : فَكُفِّنَ أَبِي وَعَمِّي فِي نَمِرَةٍ وَاحِدَةٍ .
جابر بن عبداللہ روایت:
´پھر ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی۔ انہیں زہری نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے جاتے تھے کہ` ان میں قرآن زیادہ کس نے حاصل کیا ہے؟ جس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لحد میں اسی کو دوسرے سے آگے بڑھاتے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد اور چچا کو ایک ہی کمبل میں کفن دیا گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں شہداء احد کے بارے میں ایک اہم بات آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن زیادہ کس نے حاصل کیا ہے۔ جس شخص کی طرف اشارہ کیا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لحد میں دوسرے سے آگے رکھتے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد اور چچا کو ایک ہی کمبل میں کفن دیا گیا تھا۔ قرآن کی فضیلت کی حدیث ہمیں صاف بتاتی ہے کہ قرآن سے تعلق رکھنے والے شخص کی عزت کی گئی۔ متن میں تدفین کا واقعہ ہے، اس لیے بات اسی واقعے تک رہنی چاہیے۔ یہاں قرآن یاد کرنے، شہداء کی تدفین اور نبی صلى الله عليه وسلم کے انتخاب کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن زیادہ حاصل کرنے والے کو لحد میں آگے رکھا گیا۔
- شہداء احد کی تدفین میں خاص ترتیب رکھی گئی۔
- جابر رضی اللہ عنہ کے والد اور چچا ایک کمبل میں کفن دیے گئے۔
- قرآن کا علم انسان کے مرتبے کو نمایاں کرتا ہے۔
