صحیح بخاری حدیث ۴۰۷۹ - شہداء کی تدفین
شہدائے احد کی تدفین: قرآن والے کو لحد میں آگے رکھا گیا
صحیح بخاری : ۴۰۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۷۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ». فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدٍ، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا.
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو آگے فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۷۹ کا خلاصہ
یہ حدیث شہدائے احد کی تدفین کے بارے میں صاف تفصیل دیتی ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم احد کے شہداء میں دو دو افراد کو ایک کپڑے میں جمع فرماتے، پھر پوچھتے کہ ان میں قرآن زیادہ کس نے حاصل کیا ہے؟ جس کی طرف اشارہ کیا جاتا، اسے لحد میں آگے رکھتے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا۔ پھر شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا، ان کو غسل نہیں دیا گیا، اور نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی گئی۔ اس حدیث کے اہم الفاظ شہدائے احد کی تدفین، قرآن زیادہ جاننے والا، خون سمیت دفن، اور جنازہ نہیں پڑھا گیا ہیں۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ احد کے شہداء کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم نے خاص طریقہ اختیار فرمایا اور قرآن کے علم کو تدفین میں بھی ترجیح دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں قرآن زیادہ جاننے والے کو آگے رکھا۔
- شہداء کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا گیا۔
- روایت کے مطابق انہیں غسل نہیں دیا گیا اور نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔
