صحیح بخاری حدیث ۴۰۸۰ - شہید کی عزت
جابر رضی اللہ عنہ کے والد پر فرشتوں کا سایہ
صحیح بخاری : ۴۰۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۸۰
وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَبْكِيهِ أَوْ مَا تَبْكِيهِ، مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ».
جابر روایت:
میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے تو میں رونے لگا اور باربار ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا۔ صحابہ مجھے روکتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا۔ (فاطمہ بنت عمر رضی اللہ عنہا عبداللہ کی بہن بھی رونے لگیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ روؤ مت۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تبكيه» فرمایا، یا «ما تبكيه»۔ راوی کو شک ہو گیا) فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو اٹھا لیا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ احد کے بعد جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا منظر بیان کرتی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد شہید کیے گئے تو میں رونے لگا اور بار بار ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا تھا۔ صحابہ مجھے روکتے تھے، مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مجھے نہیں روکا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ روؤ مت، یا راوی کے شک کے مطابق اسی معنی کے الفاظ فرمائے، اور بتایا کہ فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کیے رہے، یہاں تک کہ انہیں اٹھا لیا گیا۔ اس حدیث کے الفاظ جابر کے والد کی شہادت، فرشتوں کا سایہ، شہید کی عزت، اور احد کے شہداء ہیں۔ یہ روایت دکھاتی ہے کہ غم انسانی ہے، مگر شہید کے لیے اللہ کی طرف سے عزت کا خاص معاملہ بھی بیان ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جابر رضی اللہ عنہ کا رونا روایت میں آیا، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں منع نہیں کیا۔
- عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرشتوں کے پروں کا سایہ بیان ہوا۔
- شہادت کے بعد بھی اہل خانہ کے جذبات کو روایت نے محفوظ کیا۔
