صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۰ - نبی صلى الله عليه وسلم کا قمیص پہنانا

کفن میں قمیص کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا احسان اور معاملہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۵۰

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ " ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا ، قَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ أَبُو هَارُونَ : وَكَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَانِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلْبِسْ أَبِي قَمِيصَكَ الَّذِي يَلِي جِلْدَكَ ؟ قَالَ سُفْيَانُ : فَيُرَوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَ عَبْدَ اللَّهِ قَمِيصَهُ مُكَافَأَةً لِمَا صَنَعَ .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی (منافق) کو اس کی قبر میں ڈالا جا چکا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اسے قبر سے نکال لیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھ کر لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنا کرتہ اسے پہنایا۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔غالباً مرنے کے بعد ایک منافق کے ساتھ اس احسان کی وجہ یہ تھی کہ) انہوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایک قمیص پہنائی تھی (غزوہ بدر میں جب عباس رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے قیدی بن کر آئے تھے) سفیان نے بیان کیا کہ ابوہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال میں دو کرتے تھے۔عبداللہ کے لڑکے (جو مومن مخلص تھے رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے والد کو آپ وہ قمیص پہنا دیجئیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے قریب رہتی ہے۔ سفیان نے کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کرتہ اس کے کرتے کے بدل پہنا دیا جو اس نے عباس رضی اللہ عنہ کو پہنایا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن ابی کے واقعے کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسے قبر میں ڈالا جا چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے نکالا گیا، پھر آپ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا، اپنے لعاب دہن سے اس کے منہ میں پھونکا اور اپنا قمیص اسے پہنایا۔ روایت میں یہ بات بھی آئی کہ اس نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایک قمیص پہنائی تھی، اس لیے لوگوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلے کے طور پر اپنا قمیص پہنایا۔ کفن میں قمیص کی حدیث ہمیں متن کے اندر رہ کر نبی صلى الله عليه وسلم کے حسن معاملہ اور احسان کا ایک واقعہ دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک خاص موقع پر اپنا قمیص پہنایا۔
  • روایت میں عباس رضی اللہ عنہ کو قمیص دینے کا سبب ذکر ہوا ہے۔
  • حدیث کے آخر میں اللہ کے علم کی طرف معاملہ چھوڑا گیا۔
  • کسی واقعے کو سمجھتے وقت روایت کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں