صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۶ - پھل پکنے سے پہلے بیچنے کی ممانعت

پھل پکنے سے پہلے بیچنے کی حدیث: کھجور کی بیع کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۸۶

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا , وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاحِهَا ، قَالَ : حَتَّى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو (درخت پر) اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب پوچھتے کہ اس کی پختگی کیا ہے، وہ کہتے کہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اب یہ پھل آفت سے بچ رہے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۶ کا خلاصہ

یہ حدیث خرید و فروخت میں احتیاط اور صاف معاملہ کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کھجور کو درخت پر اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب پوچھا جاتا کہ پختگی کا مطلب کیا ہے، تو وہ کہتے کہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اب پھل آفت سے بچ رہا ہے۔ اس حدیث میں پھلوں کی بیع، کھجور کی خرید و فروخت، پختگی ظاہر ہونا، اور آفت سے بچنے کا ذکر ہے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ بیع میں ایسی حالت سے بچنا چاہیے جس میں بعد میں جھگڑا یا نقصان کا اندیشہ زیادہ ہو۔ حدیث صرف کھجور کے واقعے کو بیان کرتی ہے، اس لیے اسی دائرے میں بات سمجھنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع کیا گیا۔
  • بیع میں نقصان اور جھگڑے کے امکان کو کم کرنا چاہیے۔
  • آفت کا خطرہ ختم ہونا پھل کی پختگی کی علامت کے طور پر بیان ہوا۔
  • خرید و فروخت میں واضح حالت کا انتظار کرنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں