صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۸ - سرخی آنے تک پھل نہ بیچو
پھل پر سرخی آنے کی حدیث: پختگی سے پہلے فروخت منع
صحیح بخاری : ۱۴۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۸۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ ، قَالَ حَتَّى تَحْمَارَّ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک پھل پر سرخی نہ آ جائے ‘ انہیں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث پھل کی خرید و فروخت کے معاملے کو ایک واضح علامت کے ساتھ سمجھاتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پھلوں کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک وہ سرخ نہ ہو جائیں۔ روایت میں خود یہ وضاحت بھی آئی کہ اس سے مراد پھل کا پک کر سرخ ہونا ہے۔ اس حدیث میں پکے پھل کی بیع، سرخی آنے تک انتظار، اور پھل پکنے سے پہلے فروخت جیسے الفاظ اہم ہیں۔ عام آدمی کے لیے بات یہ ہے کہ جب تک پھل کی پختگی کھل کر سامنے نہ آ جائے، اسے بیچنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے خریدار اور بیچنے والے دونوں کو دھوکے، غلط توقع اور بعد کے جھگڑے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پھل پر سرخی آنا پختگی کی ایک علامت کے طور پر بیان ہوا۔
- پختگی سے پہلے فروخت کرنے سے حدیث میں منع کیا گیا۔
- خرید و فروخت میں چیز کی حالت صاف ہونی چاہیے۔
- بیع میں ایسی جلدی سے بچنا چاہیے جس سے بعد میں اختلاف ہو۔
