صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۲ - مردار بکری کے چمڑے سے فائدہ
مردار کے چمڑے کی حدیث: حرام صرف اس کا کھانا ہے
صحیح بخاری : ۱۴۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۹۲
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَيِّتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ، قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو جو بکری صدقہ میں کسی نے دی تھی وہ مری ہوئی دیکھی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کے چمڑے کو کیوں نہیں کام میں لائے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک بکری کا واقعہ ہے جو میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو صدقہ میں دی گئی تھی اور وہ مردہ پائی گئی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔ اس حدیث میں مردار کے چمڑے، صدقہ کی بکری، اور چمڑے سے فائدہ جیسے موضوعات آتے ہیں۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جس چیز کا کھانا حرام ہو، اس کے ہر استعمال کو لازماً حرام نہ سمجھ لیا جائے، جب تک نص میں اس کا حکم واضح نہ ہو۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم نے خاص طور پر کھانے کو حرام بتایا اور چمڑے سے فائدہ کا ذکر فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردار جانور کے کھانے کو حرام بتایا گیا۔
- اس واقعے میں چمڑے سے فائدہ اٹھانے کی اجازت کا ذکر ہے۔
- ہر معاملے میں حکم کو حدیث کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
- ضائع کرنے کے بجائے جائز فائدہ لیا جا سکتا ہے جہاں اجازت ہو۔
