صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۳ - بریرہ کا گوشت: ان کے لیے صدقہ، ہمارے لیے ہدیہ
بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: صدقہ کب ہدیہ بن جاتا ہے؟
صحیح بخاری : ۱۴۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۹۳
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ ، وَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا , فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، قَالَتْ : وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ ، فَقُلْتُ : هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
عائشہ روایت:
ان کا ارادہ ہوا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو (جو باندی تھیں) آزاد کر دینے کے لیے خرید لیں۔ لیکن اس کے اصل مالک یہ چاہتے تھے کہ ولاء انہیں کے لیے رہے۔ اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم خرید کر آزاد کر دو ‘ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے ‘ جو آزاد کرے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے صدقہ کے طور پر دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھا۔ لیکن اب ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی بات بریرہ رضی اللہ عنہا کی آزادی سے متعلق ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہتی تھیں، مگر مالکان ولاء اپنے لیے رکھنا چاہتے تھے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ خرید کر آزاد کر دو، ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ دوسری بات گوشت کے بارے میں ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں گوشت آیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یہ بریرہ کو صدقہ میں دیا گیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھا، مگر ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ اس حدیث میں بریرہ کا گوشت، صدقہ اور ہدیہ کا فرق، اور ولاء کا حکم آتا ہے۔ بات صاف ہے کہ کسی مستحق کو صدقہ ملنے کے بعد اگر وہ آگے ہدیہ دے تو اس کی حیثیت بدل سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے، حدیث میں یہی حکم آیا۔
- بریرہ رضی اللہ عنہا کو دیا گیا گوشت ان کے لیے صدقہ تھا۔
- وہی گوشت نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے ہدیہ قرار دیا گیا۔
- مال کی حیثیت دینے والے اور لینے والے کے بدلنے سے بدل سکتی ہے۔
