صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۸ - حج اور عمرہ دونوں کے لیے لبیک
حج اور عمرہ کی لبیک: ذوالحلیفہ والی روایت
صحیح بخاری : ۱۵۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۴۸
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالمدينة الظُّهْرَ أَرْبَعًا ، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر مدینہ منورہ میں چار رکعت پڑھی۔ لیکن نماز عصر ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔ میں نے خود سنا کہ لوگ بلند آواز سے حج اور عمرہ دونوں کے لیے لبیک کہہ رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۸ کا خلاصہ
یہ روایت نماز کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کے لیے تلبیہ کا ذکر کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت پڑھی۔ پھر راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے بلند آواز سے لبیک کہتے سنا۔ اس حدیث میں حج و عمرہ کی تلبیہ، لبیک کہنے کی آواز، اور ذوالحلیفہ سے احرام جیسے الفاظ قدرتی طور پر جڑتے ہیں۔ متن سے یہ بات صاف ہے کہ لوگوں کی آواز بلند تھی اور وہ دونوں عبادتوں کا ذکر کر رہے تھے۔ اس لیے اسے حج قران یا حج و عمرہ کے ساتھ احرام کے عمل کے ضمن میں سمجھا جا سکتا ہے، مگر اصل بیان صرف وہی ہے جو روایت میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ میں ظہر پوری اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت پڑھی گئی۔
- لوگ حج اور عمرہ دونوں کے لیے بلند آواز سے لبیک کہہ رہے تھے۔
- راوی نے اپنے سننے کو صاف الفاظ میں بیان کیا۔
